|
ڈاکٹر منظور احمد
دردمندانہ اصلاحی شاعری
’کرسی
نامہ‘ پڑھ کر فضا اعظمی صاحب
کو میں نہ اُس مفقود ہوتی
ہوئی تہذیب کا ایک نمائندہ
سمجھا جو بّرِصغیر کے اشرافیہ
کا ایک لازمی جر تھی شمالی
ہند کے پڑھے لکّھے اور مہذّب
گھرانوں میں شاید ہی کوئی
ایسا ہو جس نے اپنے عفوانِ
شباب میں ایک آدھ شعر، غزل یا
نظم نہ کہی ہو کچھ لوگ کہتے
رہتے اور شاعر بن گئے، باقی
زندگی کی دوسری مصروفّیات میں
غرق ہو گئے لیکن اِس کے
باوجود شعری ذوق اُن میں باقی
رہا۔ اور اُن میں سے کچھ جب
زندگی کے مشاغل سے کسی قدر
فارغ ہوئے تو اُسی پرانی شوق
کی طرف راجع ہوئے اور شاعری
شروع کر دی، قرآن کے ترجمے
اور تفسیریں کرنے لگے یا پھر
کسی قدر تصنیف و تالیف کی طرف
متوجّہ ہوگئے۔ فضااعظمی صاحب
کا شوق فزوں تھا اور حسیّت
عمیق۔ اُن کا جذبہ شعر کی
وساطت سے ’کچھ‘ کہنے کا ہے
اور ”کچھ“ کی وسعت ارض وسما
سے کم نہیں معلوم ہوتی۔ ”کرسی
نامہ پاکستان“ اور ’مرثئہِ
مرگِ ضمیر“ ایک احتجاج ہے،
ایک شکوہ ہے، ایک شکایت ہے
لیکن ساتھ کرب و اندوہ کی ایک
مہذّب چیخ بھی ہے لیکن شکوہ،
شکایت اور چیخ کی طرح یہ طرفہ
عمل نہیں ہے۔ یہ چیزیں تو صرف
انسان کے جذبے کی عکّاس ہوتی
ہیں اور صرف سوال کرتی ہیں۔
فضااعظمی کا اظہار یک طرفہ
عمل نہیں ہے اگر یہان شکوہ ہے
تو جواب بھی ہے، شکایت ہے تو
مداوا بھی ہے اور چیخ ہے تو
تسلّی کا راستہ بھی۔
مثنوی ’ صدا آتی ہے تہذیبوں
کے مدفن سے‘ فضااعظمی کے کلام
کا تازہ مجموعہ ہے جس کا ذیلی
عنوان ’تصادمِ ہلال و صلیب کی
نظریاتی تردید اور تشکیلِ
عالمِ نوید‘ ہے۔ پہلی نظموں
کے تسلسل میں اِس طویل نظم نے
فضااعظمی صاحب کے لیے اُن
دردمند اور اصلاح شاعروں کی
صف میں جگہ بنادی ہے جس کے
پہلے منّاد الطاف حسین حالی
تھے۔ اعظمی صاحب کی دوسری
نظموں کی طرح اپنے طرزِ ادا
اور اثر انگیزی کے اعتبار سے
یہ ایک کامیاب نطم ہے۔ اعظمی
صاحب کا اظہار تصنّع سے پاک،
سیدھا ساداہ اور الفاظ کے غیر
ضروری استعمال سے مبّرا ہے۔
جس قسم کے مضامیں اِس نظم میں
ادا ہوئے ہیں اُن کے اظہار کے
لیے اِس سے بہتر طریقہ شاید
ممکن نہیں ہے۔ اور شاعری میں
اِس صنفِ سخن میں فضائی اعظمی
صاحب نہ اپنا ایک مستقل مقام
بنا لیا ہے۔
تہذیبوں کے تصادم کا نظریہ
سیمویل ہنٹنگٹن نے
1993ع میں ایک مضمون میں سوالیہ عنوان کے ساتھ پیش کیا تھا جو ایک امریکی
رسالے ’فارن افیرز‘ میں چھپا
تھا۔ فوراً ہی اُس پر بحث کا
ایک ایسا سلسلہ شروع ہوگیا جو
بہت کم مضامین پر ہوتا ہے اور
3 سال کے عرصے میں اُس پر مختلف نقطہ ہائے نظر کی طرف سے بھرپور بحث
ہوتی رہی یہاں تک کہ
1996ع میں ہنٹنگٹن نے اُس مضمون کو ساڑھے تین سو صفحوں کی ایک کتاب ’دی
کلیش آف سِوِلائزیشن اینڈ دی
ری میکنگ آف ورلڈ آرڈر‘
(تہذیبوں کا تصادم اور عالمی
نظام کی تشکیلِ نو) کی شکل
میں شایع کردیا۔ جب سے اب تک
اِ نقطئہ نظر کے حامیون اور
مخلفتوں کا مناقشہ جاری ہے
اور لطف کی بات یہ ہے کہ اِس
نقطئہ نظر کے زبانی مخالف
عملی طور پر اِس کی موافقت
کرتے ہیں اور عملی طور پر اِس
کے حامی دنیا میں بھائی چارے،
رواداری اور ثقافتی کثرت
کادرس دیتے ہیں۔
تہذیبوں کے تصادم کے نظریے کا
ایک عوامی پہلو ہے اور ایک
عملی پہلو کو سمجھنے کے لیے
انسان کو تاریخی ارتقا اور
تصّورات کی تاریخ
(History of Ideas)
سے کسی حد تک
واقف ہونا چاہیے۔ تہذیبوں کے
توافق اور تصادم کو صحیح سیاق
میں سمجھنے کے لیے تہذیب کی
ماہیت، یہ سوال کہ کیا کوئی
تہذیب عالم گیر ہو سکتی ہے،
یہ مسئلہ کہ اقتدار اور ثقافت
میں کیار رشتہ ہے اور اقتدار
ایک تہذیب سے دوسری تہذیب کی
طرف کن حالات اور کن عوامل کی
بنا پر منتقل ہو جاتا ہے۔۔۔۔
پھر یہ سوال کہ غیر مغربی
اقوام میں مقامی تہذیبوں کی
طرف رجوع کے کیا اسباب ہیں،
تہذیبوں کا اُن کے سیاسی
ڈھانچوں سے کیا تعلّق ہے اور
مختلف سیاسی نظاموں کی بنیاد
تہذیب کس طرح فراہم کرتے ہے،
مغربی تہذیبی یلغار اور عالم
گیریّت کی کوشش نے کس قسم کے
تصادم کو جنم دیا ہے، مسلم
جارحیتّ کے اسباب کیا ہیں،
آئندہ مسلم جارحیتّ اور چینی
تہذیب کی طاقت، تہذبوں کے
مابین تعلّقات پر کس طرح اثر
انداز ہوگی۔۔۔۔ غرض اِس طرح
کے بے شمار موضوعات اور
سوالات ہیں جو عملی تحقیق کا
مطالبہ کرتے ہیں۔ اِن کا ایک
جواب دینے کی ہنٹنگٹن نے کوشش
کی ہے اور جس کا ردّ نہ سیاسی
شخصیّات کے بیانوں سے ممکن ہے
اور نہ عام انسان کی شدید
خواہش اور تمنّا کہ لوگ مل جل
کر تہیں، اِس مسئلے کے حل میں
مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
خواہش، تمنّا اور آرزو کا
ہونا ضروری ہے لیکن یہ بجائے
خود مسئلے کا حل نہیں۔
ہنٹنگٹن کے نزدیک اسلامی اور
مغربی تہذیبوں کے تصادم کو یہ
کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا
سکتا کہ مغرب کو فی نفسہ
اسلام سے کوئی عناد نہیں ہے
بلکہ صرف جارح اسلام سے ہے۔
اُس کے خیال میں اسلام اور
عیسائیت کی چودہ سو سالہ
تاریخ اِس کے برعکس منظرنامہ
پیش کرتی ہے اُن میں ہر دو
تہذیبیں ایک دوسرے سے متصادم
رہی ہیں اور ایک دوسرے کو
نیچا دِکھانے کی کوشش کرتی
رہی ہیں۔ بیسویں صدی میں لبرل
جمہوریّت کا تصادم تو تاریخ
کا ایک معمولی سانحہ معلوم
ہوتا ہے، اِس کے برخلاف اسلام
اور عیسائیت کی جنگ تو ایک
لمبی تاریخ پر محیط ہے۔ اگرچہ
بعض اوقات یہ ایک دوسرے کو
برداشت کرتے رہے ہیں لیکن اِن
دونوں میں ایک درونی کش مکش
اور غلبہ کی خواہش کبھی ختم
نہیں ہوئی۔ ساتویں اور آٹھویں
اور آٹھویں صدی کے نصف تک عرب
اسلامی تہذیب نے شمالی
افریقا، آئبیریا، مشرق وسطیٰ،
ایران اور شمالی ہندوستان میں
غلبہ حاصل کرلیا، اِس کے بعد
تقریباً دو صدیوں تک اسلامی
اور عیسائیت کے درمیان ایک
قسم کا ٹھہراؤ قائم ہوگیا۔
گیارھویں صدی کے آخر تک
عیسائی تہذیب نے دوبارہ بحیرہ
روم کے مغربی کناروں پر تسلّط
قائم کریا اور سسلی کی فتح کے
بعد طلیطہ پر قبضہ کرلیا۔
1095ئ سے عیسائیت نے صلیبی
جنگ کا آغاز کیا اور تقریباً
ڈیڑھ صدی تک یہ سلسلہ جاری
رہا یہاں تک کہ
1493ع میں بلقان،
شمالی افریقا اور قسطنطینیہ
عثمانی ترکوں کے زیرنگیں آگئے
اور
1529ع میں ویانا کا محاصرہ
کر لریا گیا۔ برنارڈ لیوس کا
کہنا ہے: ”بربروں کے اسپین
میں داخل ہونے کے بعد سے
ترکوں کے ویانا کے محاصرہے تک
تقریباً ایک ہزار سال تک
اسلام یورپ کے لیے خطرے کا
باعث بنا رہا“۔ مغربی مفکّرین
اور مقتدر قّوتوں کے نزدیک
اِس وقت دنیا میں اسلام ہی
ایک ایسی تہذیب ہے جس نے
عیسائی مغربی تہذیب کی بقا کو
کم از کم دو مرتبہ خطرے میں
ڈالا ہے اور اب بھی ایک جارح
تہذیب کی حیثیتّ سے اگر کوئی
خطرہ مغرب کو درپیش ہے تو وہ
اسلام سے ہے۔
پندرھویں صدی میں تاریخ نے
نیا موڑ لیا اور عیسائی تہذیب
نے رفتہ رفتہ آئبیریا، غرناطہ
کو واپس لے لیا۔ اسی اثنا میں
مغرب کی بڑھتی ہوئی بحری طاقت
زمینی راستے چھوڑ کر سمندری
راستے سے ہندوستان میں داخل
ہو گئی۔ دوسری طرف روسیوں نے
تاتاری حکومت کو ختم کر دیا
ترکوں نے آخری مرتبہ
1683ع میں ویانا کی طرف پھر پیش قدمی کرنا چاہی لیکن فوراً ہی بلقان ترکوں
کے اثر سے آزاد ہوگیا۔ ایک
صدی کے اندر اندر ترکی جو
یورپ کے لیے قہرِ ’سماوی‘
سمجھا جاتا ہے اب یورپ کا
’مردِ بیمار‘ بن گیا۔ پہلی
جنگِ عظیم کے اختتام پر
برطانیہ، فرانس اور اٹلی نے
عثمانی سلطنت پر اپنا
بالواسطہ یا بلاواسطہ تسلّط
کریا سوائے اُن علاقوں کے جو
ترک ری پبلک کہلائے جاتے تھے۔
1920ع میں صرف چار مسلمان
ممالک ترکی، سعودی عرب، ایران
اور افغانستان ایسے رہ گئے جو
آزاد کہلائے جا سکتے تھے لیکن
دنیا میں اُن کا اثر و رسوخ
ختم ہو گیا تھا۔
مغربی استعار کی پسپائی کی
ابتدا بھی
1920ع سے شروع ہوئی اور جس میں دوسری جنگِ عظیم کے نتیجے میں تیزی آگئی۔
سویت یونین کے انہدام نے
ڈرامائی انداز میں مزید آزاد
مسلم ریاستوں کی تعداد میں
اضافہ کردیا کچھ اندازوں کے
مطابق
1757ع سے
1919ع تک مسلم دنیا
کی
92 مملکتیں مغربی
استعار کے زیرِ تسلّط آگئی
تھیں اور
1995ع تک
69 مملکتیں ایسی
ہیں جہان آبادی کی غالب
اکثریّت مسلمانوں کی ہے۔
1820ع اور
1929ع کے درمیان جو لڑائیاں ہوئیں اُن میں پچاس فی صد مسلمان اور عیسائی
ممالک کے درمیان واقع ہوئیں۔
مسلمان اور عیسائی تہذیبوں کا
یہ تصادم کوئی وقتی مناقشہ
نہیں ہے جس کا اظہار بارھویں
صدی میں عیسائی صلیبی جنگوں
یا بیسویں صدی میں مسلم بنیاد
پرستی کی شکل میں ظاہر ہوا۔
یہ بنیادی طور پر دو تہذیبون
اور تہذیبوں کے ایک دوسرے پر
حاوی ہونے کی مستق کوشش کا
آئینہ دار ہے۔ معاملا صرف
ذاتی زندگی میں خدا کو ماننے
یا نہ ماننے کا نہیں ہے بلکہ
یہ ہے کہ عیسائی تہذیب خدا کو
خدا کا حصّہ اور سیزر کو اُس
کا حصہّ دینے کی قائل ہے جبکہ
اسلامی تہذیب خدا کی حکمرانی
کو دین اور دنیا دونوں پر
قائم کرنا چاہتی ہے۔ عیسائی
اور مسلم تہذیب کی مماثلتیں
بھی دونوں کے درمیان فاصلے کم
کرنے کا ذریعہ نہیں بنیتیں۔
دونوں مذاہب ایک خدا کو مانتے
ہیں اور بت پرستی سے انکار
کرتے ہیں اور خود کو دوسروں
کے مقابلے میں بہتر سمجھتے
ہیں۔ دونوں اپنی تہذیب اور
مذہب کو عالم گیر بنانا چاہتے
ہیں اور اِ سلسلے میں غلبے کے
نظریے کے قائل ہیں۔ دونوں
تبلیغی مذاہب ہیں جو ساری
دنیا کو مشرّف بہ اسلام یا
عیسائیت کرنا چاہتے ہیں اور
اِس میں وہ انسانوں کی نجات
سمجھتے ہیں۔ شروع سے ہی جب
بھی عیسائیت اور اسلام کو
موقع ملا اُنھوں نے فتوحات کے
ذریعے اپنے مذہب کے غلبے کی
کوشش کی ہے۔ ’جہاں‘ اور
’صلیبی جنگ‘ کے تصوّرات میں
بھی مماثلت پائی جاتی ہے۔
دونوں تاریخ کے دوری یا جامد
نظریے کے بجائے آخرت کی طرف
بڑھنے کے قائل ہیں جب ساری
دنیا پر قیامت سے پہلے اُن کے
مذہب کا غلبہ ہو جائے گا۔
عیسائیت اور اسلام کے تصادم
کی تاریخ اور بہت سے پیچیدہ
عوامل بھی رکھتی ہے اور اُن
کو سمجھے بغیر حقیقتِ عصر کا
صحیح اندازہ نہیں لگایا جا
سکتا۔ اُن میں ایک عامل آبادی
کا اتار چڑھاؤ
اور ہجرت بھی رہا ہے ساتویں صدی
میں اسلامی تہذیب کے پھیلاؤ
کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ عربوں نے
اتنی کثیر تعداد میں باز
نطینی اور ساسانی مملکتوں کی
طرف ہجرت کی جس کی نظیر اِن
مملکتوں کی تاریخ میں اِس سے
پہلے نہیں ملتی تھی چند صدیوں
بعد صلیبی جنگوں کے اسباب بڑی
حد تک معاشی ترقّی اور آباددی
کی افزائش اور گیارھویں صدی
کے یورپ میں عیسائیت کے احیا
کی تحریک تھے۔ اِس احیائی
تحریک کی وجہ سے یہ ممکن ہو
سکا کہ کسانوں اور سواروں(Knights)
کی ایک بڑی تعداد مقدسّ سر زمین کی طرف مارچ کرنے کے لیے دل و جان سے
آمادہ ہوگئی۔ جب پہلے صلیبی
قسطنطینیہ پہنچے تو ایک باز
نطینی مورّخ نے لکّھا: ”ایسا
لگتا تھا کہ بحیرہئ ایڈریاٹک
سے ہر قل کے میناروں (جبل
الّطارق) تمام مغرب اور تمام
قبیلوں نے جوق در جوق ہجرت
کرنا شروع کردی ہے اور اپنے
تماممال و متاع کے ساتھ ایک
سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح
ایشیا کی طرف بڑھ رہے ہیں“۔
انیسویں صدی میں یورپ کی
آبادی میں اضافے کے سبب ایک
مرتبہ پھر اِس قسم کی نقلِ
مکانی کا منظر دیکھنے میں آیا
جب مغربی آبادی کی ایک کثیر
تعداد نے مسلمانوں سمیت دوسری
مملکتوں کی طرف ہجرت کی۔
بیسویں صدی کے آخر میں اسلام
اور مغرب کی آویزش میں اور
اضافہ ہوگیا، اِس کی وجوہات
کئی ہیں۔ مسلم ممالک میں
آبادی کی کثرت سے بیروزگاری
پیدا ہوئی اور لوگوں کی کثیر
تعداد غیر مطمئن زندگی گزارنے
پر مجبور ہوئی۔ اُن میں سے
کچھ نے نسبتاً امیر پڑوسیوں
اور مغربی ممالک کی طرف سفر
شروع کیا۔ اپنے تشخّص کو
برقرار رکھنے کے لیے اسلام نے
اُن کو ایک اعلیٰ مقصد بھی
فراہم کر دیا جس کی وجہ سے
اُن کو زندگی بامعنیٰ معلوم
ہونے لگی اس طرح وہ ”اسلامی
آئیڈیالوجی‘، کے احیا میں
شریک و سہیم بن گئے۔ اِس احیا
کی ایک وجہ وہ ردِّ عمل بھی
تھا جو مغربی تہذیب کے عالم
گیر عزائم کے مقابلے میں جذبے
کو برانگیختہ کرنے کا سبب
بنا۔ مسلمانوں نے مغرب کی
اقدار اور اداروں کی یلغار کو
اپنے امتیازی وجود کی بقا کے
لیے خطرہ محسوس کیا۔ یہ خطرہ
صرف مغربی اقدار اور اداروں
کے تسلّط کا نہ تھا بلکہ
طاقتور ممالک بشمول روس، مغرب
اور چین کے مسلمانوں کو بے
اختیار کرنے کی کوشش کے خلاف
ایک ردِّ عمل بھی تھا۔ اِن
تمام وجوہات نے مل کر بیسویں
صدی کو نویں اور دسویں دہائی
میں دونوں تہذیبوں کے درمیان
برداشت کی سطح کو کافی نیچا
کردیا۔
آج مغرب اور اسلام کی کش مکش
میں بڑا سوال یہ ہے کہ راج کس
کا ہو اور کون پرجا۔ جب تک
مغربی اور اسلامی تہذیبیں ایک
دوسرے پر اپنی برتری کے احساس
کی حامل رہیں گی یہ تصادم بھی
برقرار رہے گا اور دونوں ایک
دوسرے پر غالب آنے کی کوشش
کرتی رہیں گی۔ اگر اُن میں
کسی کو دوسرے سے خطرہ زیادہ
ہوا تو پھر بقدرِ طاقت اور
قوّت وہ ایک دوسرے کو خاک کا
ڈھیر بنانے سے بھی دریغ نہیں
کریں گی۔
یہ ہے اُس تصادم کا پس منظر
جس سے بچنے کی کوشش مغرب اور
مشرق کا ہر معصوم آدمی کرتا
ہے۔ مغرب کو اپنی تہذیب پر
غرہّ بھی ہے اور وہ حربی اور
معاشی طاقت کا مالک ہے اس لیے
اِس جنگ میں مادّی فتح بھی اُ
کا مقّدر ہے۔ اور جس طرح نازی
تحریک کو اُس نے قوّت سے
مسمار کریا تھا کہ وہ اُن کے
لیے خطرہ بن سکتی تھی اس طرح
وہ اسلامی احیائی تحریک کو
بھی زمین دوز کرنے سے نہیں
چوکے گا۔
فضا اعظمی اُن معصومین میں
شامل ہیں جن کی شدید خواہش
اِس تصادم سے بچنے کی ہے اور
یہی خواہش دنیا کے ہر شاعر،
ادیب، دانشور اور بااخلاق
آدمی کی ہے۔ اِن میں سے ہر
شخص یہی چاہتا ہے کہ دونوں
تہذیبیں ایک دوسرے پر غلبے کی
کوشش ختم کرین اور ساتھ مل جل
کر رہنا سکھین لیکن یہ کام
آسان نہیں ہے۔ اِس کے لیے ہر
دو تہذیبوں کے ماننے اولوں کو
اپنے چند بنیادی عقائد پر
نظرِثانی کرنا پڑے گی۔ مثلاً
اِس عقیدے پر کہ اُن کا مذہب
اختیار کیے بعیر دنیا اور
آخرت کی کامیابی کا حصول
ناممکن ہے۔ مثلاً یہ عقیدہ کہ
اُن کے اقداری نظام کو دنیا
میں غالب آنا چاہیے اس لیے کہ
وہ سب سے اعلیٰ اقداری نظام
ہے۔ مثلاً یہ کہ اگر موقع ملے
تو قوّتِ نافذہ کی مدد سے
مذہب کو منوایا جا سکتا ہے
دونوں تہذیبوں کو اِس کی
گنجائش پیدا کرنا ہوگی کہ وہ
ایک دوسرے کے عقائد کے صحیح
اور غلط ثابت کرنے کے سلسلے
میں طاقت کا استعمال نہ کریں۔
کیا یہ سمائی ہر دو تہذیبوں
کے اُن نمائندوں میں موجود ہے
جو میدان میں لنگر لنگوٹ کًس
کر لڑنے پر آمادہ ہیں؟ کیا
اٹلی کے پرائم منسٹر کا مغربی
تہذیب کے متعلّق دعویٰ اور
اسلامی آئیڈیالوجی کا ادّعا
ایک ہی دنیا میں سُکھ بناہ کر
سکتے ہیں؟
یہ باتیں فضااعظمی صاحب کی
مخلصانہ آرزو کے حصول کی کسی
حد تک نفی کرتی نظر آتی ہیں
لیکن اِس بیان سے میرا منشا
اِس قدر ہے کہ ہم خود اپنے
گریبان میں جھانک کر دیکھیں۔
مغرب پر ہمارا بس نہیں چلے گا
اِس کے لیے نصیحت اور فضیحت
دونوں بے کار ہیں لیکن ہم خود
اپنے اُن پیش پا افتادہ دعووں
پر ضرور نظرِثانی کر سکتے ہیں
جن کو ہن ہدیہی حقائق یا
صداقتِ کُلّی سمجھ کر صبح شام
اپنے مواعظ میں، بیانوں میں،
تقریروں میں، اخبار کے صفحات
میں، ریڈیو اور ٹی وی کی
نشریات میں دُہراتے رہتے ہیں
اور پھر اُن سے استخراج کے
ذریعے زندگی کے ہر مسئلے پر
حکم لگا دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ
ی کام جرائ بھی چاہتا ہے اور
مشقّت طلب بھی ہے۔ یہ ایک
ایسی علمی سطح کا مطالبہ بھی
ہے جو آج اسلامی دنیا میں
تقریباً مفقود ہے۔ یہ تخلیقی
فکر کا طالب ہے جس کو ہمارے
مفتیوں نے کفر کے فتوے مار
مار کر بے بس اور لاچار کردیا
ہے۔ یہ ہماری تاریخ کی تفہیم
پر بھی نظرِثانی کا مطالبہ
کرتا ہے لیکن اِس کو بھی ہم
نے دیوتا بنا کر تنقید اور
تفہیم کی ہر کوشش سے مادرا
کردیا ہے۔ اگر یہ کام ہمارا
دانشور کرسکا تو شاید اگلے سو
سال میں اسلامی تہذیب کا کسی
نہ کسی معنیٰ میں احیا بھی
ممکن ہو سکے گا اور ساتھ ہی
دوسری تہذیبوں کے ساتھ ایک
مکالماتی فضا میں زندہ بھی رہ
سکیں گے۔ شاید اُس وقت پھر ہم
کو سیّاری جنگ کی ضرورت نہیں
رہے گی:
|